لکھنو،24 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے گاؤں پردھانوں کی میعاد جمعہ کو ختم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے گاؤں پنچایت کے مالی اور انتظامی حقوق کی دیکھ بھال کے لئے منتظمین کو مقرر کیا جائے گا۔
وہیں یوپی اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے اگلے سال مارچ کے مہینے میں ریاست میں پنچایتی انتخابات کرانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یوپی پنچایت انتخابات کے لئے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ بیلٹ بکسوں کا انتظام کیا جارہا ہے اور 90 ہزار نئے بیلٹ بکس بھی بنوائے جارہے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پنچایت انتخابات کا اعلان فروری میں کیا جاسکتا ہے۔
اتر پردیش الیکشن کمیشن نے 22 جنوری 2021 تک رائے دہندگان کی فہرست تیار کرنے کے لئے الٹی میٹم دیا ہے۔ اس بار یوپی میں پنچایت کے چار عہدوں کے لئے بیک وقت انتخابات کرانے کی تیاری کی جارہی ہے، جس میں گاؤں پنچایت ممبر، ضلع پنچایت ممبر، گاؤں پردھان اور گاؤں پنچایت ممبر شامل ہیں۔ اترپردیش میں کل 58758 گاؤں پنچایتیں، 821 علاقائی پنچایتیں اور 75 ضلعی پنچایتیں ہیں، جہاں انتخابات ہونے ہیں۔الیکشن کمیشن رائے دہندگان کی تعداد سے ڈھائی گنا زیادہ بیلٹ بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ کل بیلٹ کا 10 فیصد کمیشن ریزرو رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے الیکشن کمیشن نے آئندہ پنچایت انتخابات کے لئے ساڑھے پانچ لاکھ بیلٹ باکس کا انتظام کیا ہے۔
واضح رہے کہ 2015 میں ہونے والے یوپی پنچایت انتخابات میں 1 لاکھ 80 ہزار پولنگ مقامات تعمیر ہوئے تھے۔ ایک پولنگ والے مقام پر تقریباً ایک ہزار ووٹرز کی تعداد رکھی گئی تھی۔ اس بار 2021 میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد ایک ہزار سے گھٹا کر 800 کی جارہی ہے۔معلومات کے مطابق 2021 میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں خیال کیا جاتا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد تقریباًدو لاکھ ہے، اس کی وجہ سے پولنگ مقامات کی کل تعداد ڈھائی گنا کے مطابق تقریباً5 لاکھ سے زیادہ بیلٹ بکس کی ضرورت ہوگی۔